مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خون کے بغیر طب‌وجراحی کی بڑھتی ہوئی مانگ

خون کے بغیر طب‌وجراحی کی بڑھتی ہوئی مانگ

خون کے بغیر طب‌وجراحی کی بڑھتی ہوئی مانگ

‏”‏خون سے متعلقہ اور جراحیات کے مریضوں کا علاج‌معالجہ کرنے والے تمام لوگوں کو خون کے بغیر جراحی پر غور کرنا ہوگا۔‏“‏—‏ڈاکٹر جیوچم بولڈت،‏ پروفیسر آف اینستھیزیالوجی،‏ لڈوگزہافن،‏ جرمنی۔‏

ایڈز کے المیے نے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ کمرۂآپریشن کو اَور زیادہ محفوط بنانے کیلئے اضافی اقدام اُٹھائیں۔‏ صاف ظاہر ہے کہ اسکا مطلب خون کی مزید محتاط سکریننگ ہے۔‏ تاہم،‏ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب اقدامات بھی انتقالِ‌خون کو بالکل محفوظ قرار نہیں دیتے۔‏ ”‏اگرچہ معاشرہ خون کی فراہمی کو مزید محفوظ بنانے کیلئے بہت زیادہ وسائل کو بروئےکار لا رہا ہے،‏“‏ میگزین ٹرانسفیوژن بیان کرتا ہے،‏ ”‏ہمیں یقین ہے کہ اب بھی مریض خون کا عطیہ پیش کرنے والوں کے خون سے گریز کرنے کی کوشش کرینگے کیونکہ خون کی فراہمی کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتی۔‏“‏

یہ خلافِ‌توقع بات ہے کہ بیشتر ڈاکٹر خون دینے کی بابت محتاط ہوتے جا رہے ہیں۔‏ ”‏بنیادی طور پر،‏ انتقالِ‌خون اچھا نہیں ہے اور ہم ہر ایک کو اس سے بچانے کیلئے سخت کوشش کرتے ہیں،‏“‏ سان فرانسسکو،‏ کیلی‌فورنیا کا ڈاکٹر ایل‌ایکس زاپولان‌سکی بیان کرتا ہے۔‏

عام لوگ بھی انتقالِ‌خون کے خطرات کو سمجھنے لگے ہیں۔‏ واقعی،‏ ۱۹۹۶ کی رائےدہی نے یہ آشکارا کِیا کہ کینیڈا کے ۸۹ فیصد لوگ عطیہ دئے گئے خون کی نسبت اسکے متبادل کو ترجیح دینگے۔‏ ”‏سب مریض دوسرے شخص کے خون کے انتقال سے انکار نہیں کرینگے جیسے کہ یہوواہ کے گواہ کرتے ہیں،‏“‏ دی جرنل آف ویسکیولر سرجری بیان کرتا ہے۔‏ ”‏تاہم،‏ بیماری کی منتقلی کے خطرات اور مدافعتی نظام میں تبدیلی کا عمل اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے کہ ہمیں تمام مریضوں کیلئے متبادلات تلاش کرنے چاہئیں۔‏“‏

ایک زیادہ بہتر طریقہ

یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایک متبادل طریقہ—‏خون کے بغیر طب‌وجراحی—‏موجود ہے۔‏ بیشتر مریض اسے آخری حل نہیں بلکہ معقول وجوہات کی بِنا پر ایک بہتر علاج خیال کرتے ہیں۔‏ ایک برطانوی کنسلٹنٹ سرجن،‏ سٹیفن جیفری پولارڈ بیان کرتا ہے کہ خون کے بغیر جراحی کروانے والوں میں بیماری اور اموات کی شرح تو ”‏اُتنی ہی ہے جتنی کہ خون لینے والے مریضوں میں ہے لیکن بیشتر صورتوں میں وہ آپریشن کے بعد کی ایسی بیماریوں اور پیچیدگیوں سے بچ جاتے ہیں جو خون کی وجہ سے لگتی ہیں۔‏“‏

خون کے بغیر طبّی علاج کا آغاز کیسے ہؤا؟‏ یوں تو یہ سوال بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کیونکہ خون کے بغیر ادویات دراصل خون کے استعمال سے کہیں پہلے وجود میں آئیں تھیں۔‏ درحقیقت،‏ ۲۰ویں صدی کے اوائل میں انتقالِ‌خون کی ٹیکنالوجی نے اس حد تک ترقی کر لی کہ اسے باقاعدہ طور پر استعمال کِیا جانے لگا۔‏ تاہم،‏ حالیہ عشروں میں بعض لوگوں نے خون کے بغیر جراحی کے شعبے کو شہرت بخشی ہے۔‏ مثال کے طور پر،‏ ۱۹۶۰ کے عشرے میں مشہورومعروف سرجن ڈینٹن کولی نے پہلےپہل خون استعمال کئے بغیر دل کے چند آپریشن کئے تھے۔‏

انتقالِ‌خون لینے والوں میں ہیپاٹائٹس کے بڑھ جانے کی وجہ سے،‏ ۱۹۷۰ کے عشرے میں کئی ڈاکٹروں نے خون کے متبادلات کی تلاش شروع کر دی تھی۔‏ ۱۹۸۰ کے عشرے میں بہت سی میڈیکل ٹیمیں خون کے بغیر سرجری کر رہی تھیں۔‏ اس کے بعد،‏ جب ایڈز کی وبا پھوٹ نکلی تو انہی طریقوں کو استعمال کرنے کے خواہشمند دیگر لوگوں نے بھی ان ٹیموں سے رابطہ کِیا۔‏ ۱۹۹۰ کے عشرے میں بیشتر ہسپتالوں نے ایسے پروگرام ترتیب دئے جو اپنے مریضوں کو خون کے بغیر علاج کے انتخاب کی پیشکش کرتے تھے۔‏

اب ڈاکٹر کامیابی کے ساتھ خون کے بغیر ایسے آپریشنز اور ناگہانی صورت‌حال سے نپٹ رہے ہیں جو روایتاً انتقالِ‌خون کا تقاضا کرتے تھے۔‏ ”‏کارڈیک،‏ واسکیولر،‏ گائنی‌کولوجیکل،‏ اوبس‌ٹیٹریکل،‏ آرتھوپیڈک اور یورولوجیکل کے بڑے بڑے آپریشن خون کے بغیر یا خون سے تیارکردہ چیزوں کے بغیر بھی کامیابی سے کئے جا سکتے ہیں،‏“‏ کینیڈین جرنل آف اینستھیزیا میں ڈی.‏ ایچ.‏ ڈبلیو.‏ وانگ بیان کرتا ہے۔‏

خون کے بغیر جراحی کا ایک فائدہ بہترین علاج کو فروغ دینا ہے۔‏ ”‏زیادہ خون کو ضائع ہونے سے روکنے میں سب سے اہم بات سرجن کی مہارت ہے،‏“‏ کلیولینڈ،‏ اوہائیو میں ایک ڈائریکٹر آف سرجری ڈاکٹر بنجی‌من جے.‏ریخ‌سٹن بیان کرتا ہے۔‏ جنوبی افریقہ کا ایک لیگل جرنل کہتا ہے کہ بعض حالات میں خون کے بغیر سرجری ”‏جلدی،‏ صاف‌ستھری اور سستی“‏ ہو سکتی ہے۔‏ یہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏یقینی طور پر بیشتر صورتوں میں علاج کے بعد دیکھ‌بھال ارزاں اور کم وقت لینے والی ثابت ہوئی ہے۔‏“‏ یہ اُن وجوہات میں سے محض چند ایک ہیں جن کی بِنا پر اس وقت دُنیا بھر میں ۱۸۰ سے زائد ایسے ہسپتال ہیں جنہوں نے خون کے بغیر طب‌وجراحی میں اعلیٰ تربیت کے پروگرام ترتیب دیئے ہیں۔‏

خون اور یہوواہ کے گواہ

بائبل پر مبنی وجوہات کی بِنا پر یہوواہ کے گواہ انتقالِ‌خون سے انکار کرتے ہیں۔‏ * تاہم وہ خون کے طبّی متبادلات کو قبول کرتے ہیں بلکہ پُرجوش طریقے سے اِنکی تلاش میں رہتے ہیں۔‏ ”‏یہوواہ کے گواہ مستعدی کیساتھ بہترین طبّی علاج کی جستجو میں رہتے ہیں،‏“‏ ڈاکٹر رچرڈ کے.‏ سپنز نے یہ اُس وقت کہا جب وہ نیو یارک ہسپتال کے ڈائریکٹر آف سرجری کے عہدے پر فائز تھا۔‏ ”‏ایک گروپ کے طور پر،‏ وہ خوب تعلیم‌یافتہ ہیں جن سے کبھی کسی سرجن کی ملاقات ہو سکتی ہے۔‏“‏

ڈاکٹروں نے یہوواہ کے گواہوں پر بغیرخون سرجری کے بیشتر طریقے آزمائے ہیں۔‏ کارڈیوویسکیولر سرجن ڈینٹن کولی کے تجربے پر غور کریں۔‏ اُس نے اور اُسکی ٹیم نے ۲۷ سال کے عرصہ کے دوران ۶۶۳ یہوواہ کے گواہوں کی خون کے بغیر اوپن ہارٹ سرجری کی۔‏ نتائج واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ خون استعمال کئے بغیر بھی کامیابی کیساتھ دل کے آپریشن کئے جا سکتے ہیں۔‏

سچ ہے کہ بہتیروں نے یہوواہ کے گواہوں کو خون سے انکار کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔‏ تاہم برطانیہ کلاں اور آئرلینڈ کے اینستھیزیالوجسٹس کی ایک ایسوسی‌ایشن کی شائع‌کردہ گائیڈ گواہوں کے اس مؤقف کو ”‏زندگی کے لئے احترام کی علامت“‏ کا نام دیتی ہے۔‏ درحقیقت،‏ سب لوگوں کیلئے محفوظ طبّی علاج فراہم کرنے کی پُشت پر گواہوں کا یہ محتاط مؤقف ہی ہے۔‏ ”‏سرجری کے حاجتمند یہوواہ کے گواہوں نے نارویئن ہیلتھ سروس کے ایک اہم سیکٹر میں بہتری لانے کے لئے کچھ طریقے بھی وضع کئے ہیں اور اسکی ترغیب بھی دی ہے،‏“‏ ناروے نیشنل ہسپتال کے پروفیسر سٹن اے.‏ ایون‌سن لکھتا ہے۔‏

خون استعمال کئے بغیر علاج کرنے کے سلسلے میں ڈاکٹروں کی مدد کرنے کیلئے یہوواہ کے گواہوں نے باہمی رابطے کیلئے ایک نہایت مفید خدمت کا آغاز کِیا ہے۔‏ اس وقت پوری دُنیا میں،‏ ۴۰۰،‏۱ ہوسپٹل لائزون کمیٹیز (‏ہسپتال رابطہ کمیٹیاں)‏ ڈاکٹروں اور محققین کو خون کے بغیر طب‌وجراحی کی بابت ۰۰۰،‏۳ سے زیادہ معلوماتی مضامین پر مشتمل لٹریچر فراہم کرنے کیلئے لیس ہیں۔‏ ”‏گواہوں کی ہوسپٹل لائزون کمیٹیز کے کام کی بدولت نہ صرف یہوواہ کے گواہوں کو بلکہ دوسرے مریضوں کو بھی آجکل غیرضروری طور پر خون نہیں دیا جاتا،‏“‏ بوسٹن کالج لاء سکول میں پروفیسر ڈاکٹر چارلز بیرن بیان کرتا ہے۔‏ *

خون کے بغیر طب‌وجراحی کے سلسلے میں یہوواہ کے گواہوں کی ترتیب دی ہوئی معلومات کئی ایک طبّی شعبوں میں مفید ثابت ہوئی ہیں۔‏ مثال کے طور پر،‏ ایک کتاب بعنوان آٹوٹرانسفیوژن:‏ تھیراپیوٹک پرنسیپلز اینڈ ٹرینڈز کے لئے مواد تیار کرتے وقت ئنن نے یہوواہ کے گواہوں سے درخواست کی کہ وہ اُنہیں انتقالِ‌خون کے متبادلات کی بابت معلومات فراہم کریں۔‏ گواہوں نے خوشی سے انکی درخواست کا جواب دیا۔‏ ئنن بعدازاں شکرگزاری سے بیان کرتے ہیں:‏ ”‏اس موضوع پر اپنے تمام‌تر مطالعہ کے دوران،‏ ہم نے متناسب انتقالِ‌خون سے گریز کرنے کی حکمتِ‌عملی کی ایسی جامع اور مکمل فہرست کبھی نہیں دیکھی۔‏“‏

طبّی شعبے میں ترقی بہتیرے لوگوں کے لئے خون کے بغیر طب‌وجراحی کی بابت غوروخوض کرنے کا باعث بنی ہے۔‏ مستقبل میں ہم کن ترقیوں کی توقع کر سکتے ہیں؟‏ ایڈز کے وائرس کا دریافت کرنے والا،‏ پروفیسر لیوک موٹنگ‌نیئر بیان کرتا ہے:‏ ”‏اس شعبے میں ہماری سمجھ میں ارتقا ظاہر کرتی ہے کہ ایک دِن آئیگا جب انتقالِ‌خون کی ضرورت باقی نہ رہیگی۔‏“‏ اس دوران،‏ خون کے متبادلات زندگیاں بچا رہے ہیں۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 13 دیکھیں احبار ۷:‏۲۶،‏ ۲۷؛‏ ۱۷:‏۱۰-‏۱۴؛‏ استثنا ۱۲:‏۲۳-‏۲۵؛‏ ۱۵:‏۲۳؛‏ اعمال ۱۵:‏۲۰،‏ ۲۸،‏ ۲۹؛‏ ۲۱:‏۲۵‏۔‏

^ پیراگراف 16 اگر مدعو کِیا جائے تو ہوسپٹل لائزون کمیٹیز ہسپتال کے میڈیکل اسٹاف کو بھی اس سے متعارف کرواتی ہے۔‏ مزیدبرآں،‏ اگر اُن سے خاص مدد کی درخواست کی جاتی ہے تو وہ مریضوں کو انچارج ڈاکٹر کیساتھ شروع ہی میں صاف اور متواتر رابطہ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۷ پر بکس/‏تصویریں]‏

بعض ڈاکٹر کیا کہتے ہیں

’‏خون کے بغیر جراحی یہوواہ کے گواہوں کے علاوہ تمام مریضوں کیلئے بھی موزوں ہے۔‏ میرے خیال میں ہر ڈاکٹر کو اِس طریقے کو اختیار کرنا چاہئے۔‏‘‏—‏لڈوگزہافن،‏ جرمنی کے اینستھیزیالوجی کے پروفیسر،‏ ڈاکٹر جیوچم بولڈت۔‏

”‏اگرچہ انتقالِ‌خون ماضی کی نسبت آجکل زیادہ محفوظ ہیں توبھی مدافعتی ردِعمل اور ہیپاٹائٹس یا جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں سمیت دیگر خطرات کا باعث بنتے ہیں۔‏“‏—‏طب کے کلینیکل اسٹنٹ پروفیسر،‏ ڈاکٹر ٹیررینس جے۔‏ ساچی۔‏

”‏بیشتر ڈاکٹر انتقالِ‌خون کے سلسلے میں بڑے جلدباز ہوتے ہیں اور وہ بِلاسوچےسمجھے اور بِلاامتیاز اسکا مشورہ دیتے ہیں۔‏ مگر مَیں ایسا نہیں کرتا۔‏“‏—‏سان فرانسسکو ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں دل کی جراحی کے ڈائریکٹر،‏ ڈاکٹر ایل‌ایکس زاپولان‌سکی۔‏

‏”‏میرے خیال میں ایک نارمل مریض کے پیٹ کی روایتی جراحی عادتاً انتقالِ‌خون کا تقاضا نہیں کرتا۔‏“‏​—‏⁠جینا،‏ جرمنی سرجری کے پروفیسر،‏ ڈاکٹر جوہانس شالے۔‏

‏[‏تصویریں]‏

ڈاکٹر ٹیررینس جے۔‏ ساچی۔‏

ڈاکٹر جیوچم بولڈت۔‏

‏[‏صفحہ ۸،‏ ۹ پر بکس/‏تصویریں]‏

خون کے بغیر طب‌وجراحی

کے چند طریقے

سیال مادے:‏ رنگرز لیکٹیٹ سولیوشن،‏ ڈیکس‌ٹران،‏ ہائیڈروکسی‌تھائل سٹارچ اور دیگر سیال مادّے خون کی مقدار کو قائم رکھنے،‏ ہائپووالمک شاک کو روکنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔‏ بعض سیال مادے جن کو اب ٹیسٹ کِیا جا رہا ہے وہ آکسیجن بھی پہنچا سکتے ہیں۔‏

ادویات:‏ جینیاتی ردوبدل والے لحمیات خون کے سُرخ خلیوں (‏اری‌تھروپوٹین)‏،‏ بلڈ پلیٹ‌لٹس (‏انٹرلیوکن-‏۱۱)‏ اور خون کے دیگر سفید خلیوں (‏GM-CSF, G-CSF)‏ کی افزائش کو بڑھا سکتے ہیں۔‏ دوسری بہت سی ادویات (‏ایپروٹی‌نن،‏ اینٹی‌فائبرینولیٹکس)‏ جراحی کے دوران خون ضائع ہونے کو روک سکتی ہیں یا پھر (‏ڈیس‌موپریسن)‏ تیزی سے خون بہنے کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔‏

حیاتیاتی چسپاندے:‏ کولاجن اور سیلولوس سے بنی ہوئی نرم گدیاں خون روکنے کیلئے براہِ‌راست استعمال کی جاتی ہیں۔‏ فائبرن گلوز اور سیل‌انٹس رسنے والے زخموں کو بند کرنے یا جن نسیجوں سے خون بہہ رہا ہو اُنہیں ڈھانپنے کے کام آ سکتے ہیں۔‏

خون کا بچاؤ:‏ خون کو بچانے والی مشینیں اُس خون کو محفوظ کر لیتی ہیں جو سرجری یا ٹراما کے دوران ضائع ہوتا ہے۔‏ خون کو صاف کِیا جاتا ہے اور پھر ایک مسلسل سرکٹ کے ذریعے مریض کے جسم میں واپس داخل کر دیا جاتا ہے۔‏ انتہائی سنگین صورتحال میں،‏ اس نظام کے ذریعے کئی لیٹر خون بازیافت کِیا جا سکتا ہے۔‏

جراحی آلات:‏ بعض آلات ایک ہی وقت میں خون کی شریانوں کو کاٹنے اور بند کرنے کا کام کرتے ہیں۔‏ دیگر آلات نسیج کے بڑے حصوں سے بہنے والے خون کو بند کر سکتے ہیں۔‏ دروُں‌نما (‏لیپروسکوپک)‏ اور اندر داخل کرنے والے قدرے چھوٹے آلات بڑی چیرپھاڑ کی وجہ سے خون ضائع کئے بغیر ہی سرجری کو ممکن بناتے ہیں۔‏

جراحی کے ماہرانہ طریقے:‏ جراحی سے متعلق مکمل منصوبہ‌سازی جس میں تجربہ‌کار ماہرینِ‌امراض کیساتھ مشورہ کرنا شامل ہے،‏ اِس سے سرجیکل ٹیم کو پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔‏ خون روکنے کیلئے فوری کارروائی اشد ضروری ہے۔‏ ۲۴ گھنٹے سے زیادہ تاخیر مریض کی زندگی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‏ بڑی جراحیوں کو چھوٹی چھوٹی جراحیوں میں تقسیم کر دینا کم خون ضائع ہونے پر منتج ہوتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۱۰ پر بکس/‏تصویریں]‏

خون کے بغیر علاج‌معالجہ نیا ”‏معیاری طریقئہ علاج“‏؟‏

جاگو!‏ نے خون کے بغیر طب‌وجراحی کے فوائد کے سلسلے میں چار ایسے ڈاکٹروں سے گفتگو کی جو اس شعبے میں بہت زیادہ ماہر ہیں۔‏

مذہبی وجوہات کی بِنا پر،‏ انتقالِ‌خون سے انکار کرنے والے مریضوں کے علاوہ اَور کون لوگ خون کے بغیر علاج‌معالجے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں؟‏

ڈاکٹر سپاہن:‏ ہمارے سینٹر میں خون کے بغیر علاج‌معالجے کی درخواست کرنے والے مریض عموماً خوب آگاہ ہوتے ہیں۔‏

ڈاکٹر شاندر:‏ سن ۱۹۹۸ میں ذاتی وجوہات کی بِنا پر خون لینے سے انکار کرنے والوں کی تعداد مذہبی وجوہات کی بِنا پر خون لینے سے انکار کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ تھی۔‏

ڈاکٹر بوئڈ:‏ مثال کے طور پر،‏ کینسر کے مریضوں کو لے لیں۔‏ کئی بار یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اگر وہ خون نہیں لیتے تو وہ جلد تندرست ہو جاتے ہیں اور اُن میں یہ بیماری دوبارہ عود نہیں کرتی۔‏

ڈاکٹر سپان:‏ ہم اکثر یونیورسٹی کے پروفیسروں اور اُنکے خاندانوں کا علاج خون کے بغیر ہی کرتے ہیں۔‏ حتیٰ‌کہ سرجن بھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم انتقالِ‌خون سے پرہیز کریں!‏ مثال کے طور پر،‏ ایک سرجن اپنی بیوی کے سلسلے میں ہمارے پاس آیا جسے جراحی کی ضرورت تھی۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏بس ایک بات کا خیال رکھنا کہ اُسے خون نہ دیا جائے!‏“‏

ڈاکٹر شاندر:‏ میرے اینستھیزیا ڈیپارٹمنٹ کے اراکین نے کہا:‏ ’‏جن مریضوں کو خون نہیں دیا جا رہا اُنکی صحت کافی اچھی ہے بلکہ شاید زیادہ بہتر ہے۔‏ ہمارے طریقۂ‌علاج کے دو معیار کیوں ہیں؟‏ اگر یہ طریقۂ‌علاج بہترین ہے تو ہمیں سب کیلئے اسے استعمال کرنا چاہئے۔‏‘‏ لہٰذا،‏ اب ہم خون کے بغیر علاج‌معالجے کو معیاری بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔‏

مسٹر ارنشاء:‏ یہ سچ ہے کہ خون کے بغیر سرجری کو خاص طور پر یہوواہ کے گواہوں سے وابستہ کِیا جاتا ہے۔‏ تاہم،‏ ہماری یہ خواہش ہے کہ سب کا اسی طرح علاج کریں۔‏

خون کے بغیر علاج کیا یہ زیادہ مہنگا ہے یا سستا ہے؟‏

مسٹر ارنشاء:‏ یہ سستا ہے۔‏

ڈاکٹر شاندر:‏ خون کے بغیر علاج‌معالجے کی قیمت ۲۵ فیصد کم ہو جاتی ہے۔‏

ڈاکٹر بوئڈ:‏ اگر یہی ایک وجہ ہے تو ہمیں اسے استعمال کرنا چاہئے۔‏

خون کے بغیر طبّی طریقۂ‌علاج کے سلسلے میں ہم نے کس حد تک ترقی کر لی ہے؟‏

ڈاکٹر بوئڈ:‏ میرا خیال ہے کہ اس میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔‏ تاہم یہ اس کی انتہا نہیں ہے۔‏ ہر مرتبہ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں خون نہ استعمال کرنے کی ایک معقول اور نئی وجہ مل جاتی ہے۔‏

‏[‏تصویریں]‏

مسٹر پیٹر ارنشاء،‏ ایف‌آرسی‌ایس،‏ کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن،‏ لندن،‏ انگلینڈ

ڈاکٹر ڈوناٹ آر۔‏ سپان پروفیسر آف اینستھیزیالوجی،‏ زیوریخ،‏ سوئٹزرلینڈ

ڈاکٹر آریا شاندر اسسٹنٹ کلینکل پروفیسر آف اینستھیزیالوجی،‏ یونائیٹڈ سٹیٹس

ڈاکٹر مارک ای۔‏ بوئڈ پروفیسر آف اوبسٹیٹرکس اینڈ گائناکالوجی،‏ کینیڈا

‏[‏صفحہ ۱۱ پر بکس]‏

مریض کا کردار

▪ علاج کی ضرورت پیش آنے سے ”‏پہلے“‏ اپنے ڈاکٹر سے خون کے متبادلات کی بابت گفتگو کریں۔‏ یہ بالخصوص حاملہ خواتین،‏ چھوٹے بچوں والے والدین اور عمررسیدہ اشخاص کیلئے نہایت ضروری ہے۔‏

▪ خاص طور پر ایسے مقصد کے لئے اگر کوئی قانونی دستاویز دستیاب ہو تو اپنی خواہشات کا اظہار تحریری شکل میں کریں۔‏

▪ اگر آپکا ڈاکٹر خون کے بغیر آپکا علاج کرنے کیلئے تیار نہیں ہے تو ایسا ڈاکٹر تلاش کریں جو آپکی خواہشات کا احترام کریگا۔‏

▪ خون کے بعض متبادلات کو مؤثر ثابت ہونے میں وقت لگتا ہے اسلئے اگر آپ جانتے ہیں کہ آپکو آپریشن کی ضرورت ہے تو علاج میں تاخیر نہ کریں۔‏