مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ایماندار مسیحی عورتیں—‏خدا کی قابلِ‌قدر پرستار

ایماندار مسیحی عورتیں—‏خدا کی قابلِ‌قدر پرستار

ایماندار مسیحی عورتیں—‏خدا کی قابلِ‌قدر پرستار

‏”‏حسن دھوکا اور جمال بےثبات ہے لیکن وہ عورت جو خداوند سے ڈرتی ہے ستودہ ہوگی۔‏“‏ —‏امثال ۳۱:‏۳۰‏۔‏

۱.‏ دُنیا کے برعکس یہوواہ خوبصورتی کی بابت کیسا نظریہ رکھتا ہے؟‏

دُنیا ظاہری شکل‌وصورت پر بہت زور دیتی ہے۔‏ بالخصوص عورتوں کے معاملے میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے۔‏ تاہم،‏ یہوواہ بنیادی طور پر باطنی شخصیت میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں عمر کیساتھ ساتھ زیادہ نکھار آ جاتا ہے۔‏ (‏امثال ۱۶:‏۳۱‏)‏ پس،‏ بائبل عورتوں کو نصیحت کرتی ہے:‏ ”‏تمہارا سنگار ظاہری نہ ہو یعنی سر گوندھنا اور سونے کے زیور اور طرح طرح کے کپڑے پہننا۔‏ بلکہ تمہاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت حلم اور مزاج کی غربت کی غیرفانی آرائش سے آراستہ رہے کیونکہ خدا کے نزدیک اِسکی بڑی قدر  ہے۔‏“‏—‏۱-‏پطرس ۳:‏۳،‏ ۴‏۔‏

۲،‏ ۳.‏ پہلی صدی میں خواتین نے کیسے خوشخبری پھیلانے کے کام میں حصہ لیا،‏ نیز اسکی پیشینگوئی کیسے کی گئی تھی؟‏

۲ بائبل میں کئی متذکرہ عورتوں نے ایسا قابلِ‌تعریف جذبہ دِکھایا ہے۔‏ پہلی صدی میں ان میں سے بعض کو یسوع اور اُسکے رسولوں کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔‏ (‏لوقا ۸:‏۱-‏۳‏)‏ بعدازاں،‏ مسیحی عورتیں سرگرم مبشر بن گئیں؛‏ دیگر نے مسیحی پیشواؤں کی بڑی مدد کی جن میں پولس رسول بھی شامل ہے؛‏ اور بعض نے غیرمعمولی مہمان‌نوازی دکھائی حتیٰ‌کہ کلیسیائی اجلاسوں کیلئے اپنے گھر کھول دئے۔‏

۳ صحائف میں اس بات کی پیشینگوئی کر دی گئی تھی کہ یہوواہ عورتوں کو اپنے مقاصد کی انجام‌دہی میں مؤثر طریقے سے استعمال کریگا۔‏ مثال کے طور پر،‏ یوایل ۲:‏۲۸،‏ ۲۹ کی پیشینگوئی بیان کرتی ہے کہ مرد اور عورتیں،‏ جوان اور بوڑھے سب رُوح‌اُلقدس حاصل کرینگے اور بادشاہی کی خوشخبری کا اعلان کرنے میں حصہ لینگے۔‏ یہ پیشینگوئی پنتِکُست ۳۳ س.‏ع.‏ پر پوری ہوئی۔‏ (‏اعمال ۲:‏۱-‏۴،‏ ۱۶-‏۱۸‏)‏ روح سے مسح‌شُدہ بعض عورتوں کو نبوّت جیسی معجزانہ نعمتیں عطا کی گئی تھیں۔‏ (‏اعمال ۲۱:‏۸،‏ ۹‏)‏ خدمتگزاری میں اپنی گرمجوشی کی وجہ سے،‏ پہلی صدی میں ایماندار بہنوں کے اس روحانی لشکر نے مسیحیت کے فروغ میں بہت بڑا کردار ادا کِیا۔‏ دراصل،‏ ۶۰ س.‏ع.‏ میں پولس رسول نے لکھا کہ خوشخبری کی ”‏منادی آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات میں“‏ ہو چکی  ہے۔‏—‏کلسیوں ۱:‏۲۳‏۔‏

اُنکے جذبے،‏ حوصلے اور مہمان‌نوازی کی قدر کی جاتی ہے

۴.‏ پولس کے پاس پہلی صدی کی مسیحی کلیسیا کی بعض خواتین کی تعریف کرنے کی کونسی معقول وجہ تھی؟‏

۴ پولس رسول بالخصوص چند عورتوں کی خدمتگزاری کیلئے مشکور تھا جیسے آجکل بھی مسیحی نگہبان سرگرم بہنوں کی خدمتگزاری کی قدر کرتے ہیں۔‏ جن عورتوں کا پولس نے بنام ذکر کِیا اُن میں ”‏تروفینہ اور تروفوسہ .‏ .‏ .‏ جو خداوند میں محنت کرتی ہیں،‏“‏ اور ”‏پیاری پرسس .‏ .‏ .‏ جس نے خداوند میں بہت محنت کی“‏ شامل ہیں۔‏ (‏رومیوں ۱۶:‏۱۲‏)‏ پولس نے لکھا کہ یوودیہ اور سنتخے نے ”‏میرے ساتھ خوشخبری پھیلانے میں“‏ جانفشانی کی ہے۔‏ (‏فلپیوں ۴:‏۲،‏ ۳‏)‏ پرسکلہ اور اُسکے شوہر اکولہ نے بھی پولس کیساتھ ملکر خدمت کی تھی۔‏ اُس نے اور اکولہ نے تو پولس کی خاطر ”‏اپنا سر دے رکھا تھا“‏ جس سے اُسے یہ لکھنے کی تحریک ملی:‏ ”‏صرف مَیں ہی نہیں بلکہ غیرقوموں کی سب کلیسیائیں اُنکی شکرگزار ہیں۔‏“‏—‏رومیوں ۱۶:‏۳،‏ ۴؛‏ اعمال ۱۸:‏۲‏۔‏

۵،‏ ۶.‏ کن طریقوں سے پرسکلہ نے آجکل کی بہنوں کیلئے عمدہ نمونہ قائم کِیا؟‏

۵ پرسکلہ کے جوش اور دلیری کی کیا وجہ تھی؟‏ اسکا اشارہ اعمال ۱۸:‏۲۴-‏۲۶ سے ملتا ہے جہاں ہم پڑھتے ہیں کہ اُس نے ایک خوش تقریر،‏ اپلوس کی آشکارا سچائی کی حالیہ سمجھ حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے اپنے شوہر کی حمایت کی تھی۔‏ پس،‏ بدیہی طور پر،‏ پرسکلہ خدا کے کلام اور رسولوں کی تعلیم کی اچھی طالبہ تھی۔‏ نتیجتاً،‏ اُس نے اپنے اندر شاندار خوبیاں پیدا کیں جنکی بدولت وہ خدا اور شوہر کیلئے گراں‌بہا اور ابتدائی مسیحی کلیسیا کا ایک قیمتی رُکن بن گئی۔‏ آجکل بھی مستعدی سے بائبل مطالعہ کرنے اور ”‏دیانتدار اور عقلمند داروغہ“‏ کے ذریعے یہوواہ کی طرف سے فراہم‌کردہ روحانی خوراک سے استفادہ کرنے والی بیشمار محنتی بہنیں اُتنی ہی قیمتی ہیں۔‏—‏لوقا ۱۲:‏۴۲‏۔‏

۶ اکولہ اور پرسکلہ غیرمعمولی طور پر مہمان‌نواز تھے۔‏ پولس نے کرنتھس میں اُنکے گھر میں قیام کے دوران اُنکے ساتھ خیمہ‌دوزی کا کام بھی کِیا۔‏ (‏اعمال ۱۸:‏۱-‏۳‏)‏ جب یہ جوڑا افسس اور بعدازاں روم میں منتقل ہو گیا تو وہ وہاں بھی مسیحی مہمان‌نوازی ظاہر کرتے اور اپنا گھر کلیسیائی اجلاسوں کیلئے پیش کرتے رہے۔‏ (‏اعمال ۱۸:‏۱۸،‏ ۱۹؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۶:‏۸،‏ ۱۹‏)‏ اسی طرح نمفاس اور یوحنا مرقس کی ماں مریم نے بھی کلیسیائی اجلاسوں کیلئے اپنے گھر پیش کئے۔‏—‏اعمال ۱۲:‏۱۲؛‏ کلسیوں ۴:‏۱۵‏۔‏

آجکل ایک قیمتی اثاثہ

۷،‏ ۸.‏ پاک خدمت کے سلسلے میں جدید زمانے کی مسیحی عورتیں کیسا قابلِ‌تعریف ریکارڈ رکھتی ہیں اور وہ کس چیز کا یقین رکھ سکتی ہیں؟‏

۷ پہلی صدی کی طرح،‏ آجکل بھی ایماندار مسیحی عورتیں خدا کے مقصد میں،‏ بالخصوص بشارت کے کام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‏ اِن بہنوں نے کیا ہی عمدہ ریکارڈ قائم کِیا ہے!‏ گوئن کی مثال پر غور کریں جس نے ۲۰۰۲ میں اپنی وفات تک ۵۰ سال سے زیادہ یہوواہ کی خدمت کی تھی۔‏ اُسکا شوہر کہتا ہے،‏ ”‏مبشر کے طور پر گوئن کا جذبہ ہمارے شہر میں بہت مشہور تھا۔‏ اُس کیلئے ہر شخص یہوواہ کی محبت اور اُسکے وعدوں کا امکانی وارث تھا۔‏ خدا،‏ اُسکی تنظیم اور ہمارے خاندان کیلئے اُسکی وفاداری کے علاوہ جب ہم پریشان ہوتے تھے تو اُسکی مشفقانہ حوصلہ‌افزائی ہماری اکٹھی زندگی کے دوران میرے اور ہمارے بچوں کیلئے بہت بڑی مدد ثابت ہوئی ہے۔‏ ہم اُسکی بہت کمی محسوس کرتے ہیں۔‏“‏ گوئن اور اُسکے شوہر کی شادی کو ۶۱ برس گزر گئے ہیں۔‏

۸ سینکڑوں کنواری اور شادی‌شُدہ مسیحی عورتیں پائنیر اور مشنری خدمت انجام دے رہی ہیں اور بڑے بڑے شہروں سے لیکر دوردراز کے علاقوں میں بادشاہتی پیغام پیش کرتے ہوئے قناعت‌پسندانہ زندگی بسر کر رہی ہیں۔‏ (‏اعمال ۱:‏۸‏)‏ بیشتر نے بھرپور طریقے سے یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے اولاد پیدا کرنے اور گھر بنانے کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے۔‏ ایسی بھی عورتیں ہیں جو وفاداری کیساتھ سفری نگہبانوں کے طور پر خدمت کرنے والے شوہروں کی حمایت کرتی ہیں جبکہ ایسی بھی ہزاروں بہنیں ہیں جو دُنیا بھر میں بیت‌ایل ہومز میں خدمت انجام دے رہی ہیں۔‏ بِلاشُبہ،‏ خودایثاری کے جذبے سے سرشار ایسی عورتیں یہوواہ کے گھر کو جلال سے معمور کرنے والی ”‏قوموں .‏ .‏ .‏ کی مرغوب چیزیں“‏ ہیں۔‏—‏حجی ۲:‏۷‏۔‏

۹،‏ ۱۰.‏ بعض خاندانی افراد نے مسیحی بیویوں اور ماؤں کے قائم‌کردہ کونسے عمدہ نمونے کیلئے قدردانی کا اظہار کِیا ہے؟‏

۹ بیشک بہت سی مسیحی عورتوں کو خاندانی ذمہ‌داریاں پوری کرنی پڑتی ہیں،‏ اسکے باوجود وہ بادشاہتی مفادات کو پہلا درجہ دیتی ہیں۔‏ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ ایک کنواری پائنیر بہن نے لکھا:‏ ”‏میرے باقاعدہ پائنیر بننے میں میری ماں کے غیرمتزلزل ایمان اور عمدہ نمونے نے بنیادی کردار ادا کِیا۔‏ سچ تو یہ ہے کہ وہ میری بہترین پائنیر ساتھی تھی۔‏“‏ ایک شوہر اپنی بیوی کی بابت کہتا ہے،‏ جسکی پانچ جوان بیٹیاں ہیں:‏ ”‏ہمارا گھر ہمیشہ صاف‌ستھرا رہتا تھا۔‏ بونی اسے سادہ مگر صاف رکھتی تھی تاکہ ہمارا خاندان روحانی حاصلات پر زیادہ توجہ دے سکے۔‏ ہمارے مالی اخراجات کو احتیاط کیساتھ چلانے سے اُس نے میرے لئے ممکن بنایا کہ مَیں ۳۲ سال تک جُزوقتی ملازمت کرکے اپنے خاندان اور روحانی معاملات کو زیادہ وقت دے سکوں۔‏ میری بیوی نے بچوں کو محنت سے کام کرنا بھی سکھایا۔‏ مَیں اُسکی جتنی بھی تعریف کروں وہ کم ہے۔‏“‏ آجکل وہ دونوں میاں‌بیوی یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈ کوارٹرز میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔‏

۱۰ ایک شوہر اپنی بیوی کی بابت لکھتا ہے جو جوان بچوں کی ماں ہے:‏ ”‏سوزین کی جن خوبیوں کی مَیں تعریف کرتا ہوں وہ یہوواہ اور اُسکے لوگوں کیلئے اُسکی شدید محبت کیساتھ ساتھ سمجھداری،‏ ہمدردی اور دیانتداری ہے۔‏ اُس نے ہمیشہ یہ نظریہ قائم رکھا ہے کہ یہوواہ ہماری طرف سے بہترین چیز کا مستحق ہے—‏یہ ایک ایسا اُصول ہے جس پر وہ ایک ماں اور یہوواہ کی خادمہ کے طور پر عمل کرتی ہے۔‏“‏ اپنی بیوی کی مدد سے یہ شوہر بہت سے روحانی استحقاقات سے استفادہ کرنے کے قابل ہوا ہے جس میں ایک بزرگ،‏ پائنیر،‏ متبادل سرکٹ اوورسیئر اور ہاسپٹل لائزون کمیٹی کا ممبر ہونا شامل ہے۔‏ ایسی عورتیں اپنے شوہروں،‏ ساتھی ایمانداروں اور سب سے بڑھ کر یہوواہ کیلئے کسقدر گراں‌بہا ہیں!‏—‏امثال ۳۱:‏۲۸،‏ ۳۰‏۔‏

کنواری اور بیوہ عورتیں بھی قابلِ‌قدر ہیں

۱۱.‏ (‏ا)‏ یہوواہ نے ایماندار خواتین بالخصوص بیواؤں کیلئے اپنی فکرمندی کا اظہار کیسے کِیا ہے؟‏ (‏ب)‏ مسیحی بیوائیں اور دیگر ایماندار بہنیں جنکے شوہر نہیں کس بات کا یقین رکھ سکتی ہیں؟‏

۱۱ یہوواہ نے اکثر بیواؤں کی فلاح کیلئے اپنی فکرمندی کا اظہار کِیا ہے۔‏ (‏استثنا ۲۷:‏۱۹؛‏ زبور ۶۸:‏۵؛‏ یسعیاہ ۱۰:‏۱،‏ ۲‏)‏ وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔‏ وہ نہ صرف بیواؤں میں بلکہ ماؤں نیز ایسی عورتوں کی بھی فکر رکھتا ہے جو اپنی مرضی سے کنواری ہیں یا جنہیں مناسب مسیحی شوہر نہیں ملے۔‏ (‏ملاکی ۳:‏۶؛‏ یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ اگر آپکا شمار ان میں ہوتا ہے اور بغیر مسیحی ساتھی کے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہیں تو آپ یقین رکھیں کہ آپ یہوواہ کی نظر میں قابلِ‌قدر ہیں۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ بعض مسیحی بہنیں یہوواہ کیلئے اپنی وفاداری کا اظہار کیسے کرتی ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہماری بعض بہنیں کن احساسات کا مقابلہ کر رہی ہیں؟‏

۱۲ مثال کے طور پر،‏ ہماری ایسی مسیحی بہنوں پر غور کریں جنہوں نے محض اسلئے شادی نہیں کی کہ وہ وفاداری کیساتھ ”‏صرف خداوند“‏ میں شادی کرنے کے یہوواہ کے حکم کی فرمانبرداری کر رہی ہیں۔‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۹؛‏ امثال ۳:‏۱‏)‏ خدا کا کلام یقین‌دہانی کراتا ہے:‏ ”‏رحمدل کیساتھ [‏یہوواہ]‏ رحیم ہوگا۔‏“‏ (‏۲-‏سموئیل ۲۲:‏۲۶‏)‏ تاہم،‏ ان میں سے بیشتر کیلئے کنوارا رہنا ایک چیلنج ہے۔‏ ایک بہن کہتی ہے:‏ ”‏مَیں نے پکا ارادہ کر رکھا تھا کہ صرف خداوند ہی میں شادی کرونگی مگر جب مَیں اپنی سہیلیوں کو اچھے مسیحی بھائیوں سے شادی کرتے اور خود کو تنہا دیکھتی ہوں تو بہت روتی ہوں۔‏“‏ ایک دوسری بہن بیان کرتی ہے:‏ ”‏مَیں ۲۵ سال سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہوں۔‏ مَیں نے اُسکا وفادار رہنے کا عزم کِیا ہے،‏ تاہم تنہائی کے احساسات اکثر مجھے افسردہ کر دیتے ہیں۔‏“‏ وہ مزید کہتی ہے:‏ ”‏میرے جیسی بہنوں کو حوصلہ‌افزائی کی سخت ضرورت ہے۔‏“‏ ہم ایسے وفادار لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۱۳.‏ (‏ا)‏ افتاح کی بیٹی سے ملاقات کرنے والوں کے نمونے سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ کن طریقوں سے ہم اپنی کلیسیا کی کنواری بہنوں کیلئے فکرمندی ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

۱۳ ایک طریقہ ماضی کی ایک مثال سے نظر آتا ہے۔‏ جب افتاح کی بیٹی نے شادی کرنے کے موقع کو مسترد کر دیا تو لوگ سمجھ گئے کہ وہ قربانی دے رہی ہے۔‏ اُسکی حوصلہ‌افزائی کیلئے کیا کِیا گیا؟‏ ”‏سال‌بسال اسرائیلی عورتیں جاکر برس میں چار دن تک افتاؔح‌جلعادی کی بیٹی کی یادگاری ‏[‏”‏اسکی تعریف کِیا کرتی تھیں،‏“‏ این‌ڈبلیو]‏ کرتی تھیں۔‏“‏ (‏قضاۃ ۱۱:‏۳۰-‏۴۰‏)‏ اسی طرح جو کنواری بہنیں وفاداری کیساتھ یہوواہ کا حکم بجا لاتی ہیں اُنکی تعریف کی جانی چاہئے۔‏ * کسطرح ہم اپنی فکرمندی کا اظہار کر سکتے ہیں؟‏ ہمیں اپنی دعاؤں میں یہوواہ سے درخواست کرنی چاہئے کہ خدا اِن وفادار بہنوں کو اپنی خدمت جاری رکھنے میں مدد دے۔‏ وہ اس یقین‌دہانی کی مستحق ہیں کہ یہوواہ اور ساری مسیحی کلیسیا اُنہیں عزیز جانتی اور اُنکی قدر کرتی  ہے۔‏—‏زبور ۳۷:‏۲۸‏۔‏

سنگل پیرنٹس کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں

۱۴،‏ ۱۵.‏ (‏ا)‏ تنہا ماؤں کو یہوواہ سے مدد کیوں مانگنی چاہئے؟‏ (‏ب)‏ تنہا ماں یا باپ اپنی دُعاؤں کی مطابقت میں کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۴ سنگل پیرنٹ مسیحی عورتوں کو بھی بیشمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ تاہم،‏ وہ اپنے بچوں کی بائبل اُصولوں کے مطابق تربیت کرنے کے سلسلے میں مدد کیلئے یہوواہ کی طرف رجوع کر سکتی ہیں۔‏ سچ ہے کہ اگر آپ سنگل پیرنٹ ہیں تو آپ ہر لحاظ سے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔‏ تاہم،‏ اگر آپ ایمان کیساتھ یہوواہ سے درخواست کرتے ہیں تو وہ آپکو بہت زیادہ ذمہ‌داریاں پوری کرنے میں مدد دیگا۔‏ مثلاً فرض کریں کہ آپکو ایک بھاری تھیلے کیساتھ اپنے اپارٹمنٹ میں کافی اُوپر جانا ہے۔‏ اگر اُس عمارت میں لفٹ لگی ہے تو کیا آپ اُسے چھوڑ کر سیڑھیاں چڑھیں گے؟‏ ہرگز نہیں!‏ پس اسی طرح،‏ جب آپ یہوواہ سے مدد مانگ سکتے ہیں توپھر تنہا بھاری جذباتی بوجھ اُٹھانے کی زحمت نہ کریں۔‏ سچ تو یہ ہے کہ وہ آپکو مدد مانگنے کی دعوت دیتا ہے۔‏ زبور ۶۸:‏۱۹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏خداوند مبارک ہو جو ہر روز ہمارا بوجھ اُٹھاتا ہے۔‏“‏ اسی طرح،‏ ۱-‏پطرس ۵:‏۷ دعوت دیتی ہے کہ اپنی ساری فکریں یہوواہ پر ڈال دو ‏”‏کیونکہ اُسکو تمہاری فکر ہے۔‏“‏ لہٰذا جب مسائل اور فکریں آپکو دبا لیتی ہیں تو اپنا بوجھ اپنے آسمانی باپ پر ڈال دیں اور ”‏بلاناغہ“‏ ایسا کریں۔‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۷؛‏ زبور ۱۸:‏۶؛‏ ۵۵:‏۲۲‏۔‏

۱۵ مثال کے طور پر،‏ اگر آپ ایک ماں ہیں تو یقیناً آپ سکول میں اپنے بچوں کے دوستوں کی طرف سے دباؤ یا راستی پر قائم رہنے کے سلسلے میں مختلف آزمائشوں کیلئے فکرمند ہوتی ہیں۔‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏)‏ یہ معقول فکر ہے۔‏ مگر یہ ایسے معاملات ہیں جنکی بابت ہم دُعا کر سکتے ہیں۔‏ کیوں نہ اپنے بچوں کے سکول جانے سے پہلے شاید روزانہ کی آیت پر غور کرنے کے بعد اِن باتوں کی بابت اپنے بچوں کیساتھ ملکر دُعا کریں؟‏ مخصوص دلی دُعائیں چھوٹے ذہنوں پر گہرا اثر کر سکتی ہیں۔‏ سب سے بڑھ کر،‏ جب آپ مستقل مزاجی کیساتھ یہوواہ کا کلام اپنے بچوں کے دلوں میں نقش کرنا چاہتی ہیں تو آپ یہوواہ کی برکات کو دعوت دیتی ہیں۔‏ (‏استثنا ۶:‏۶،‏ ۷؛‏ امثال ۲۲:‏۶‏)‏ یاد رکھیں،‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اُسکے کان اُنکی دعا پر لگے ہیں۔‏“‏—‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۲؛‏ فلپیوں ۴:‏۶،‏ ۷‏۔‏

۱۶،‏ ۱۷.‏ (‏ا)‏ ایک بیٹے نے اپنی ماں کی محبت کے سلسلے میں کیا بیان کِیا؟‏ (‏ب)‏ ماں کے روحانی نقطہ‌نظر نے بچوں پر کیا اثر ڈالا؟‏

۱۶ چھ بچوں کی ماں اولیویا پر غور کریں۔‏ آخری بچے کی پیدائش کے بعد،‏ اُسکے بےایمان ساتھی نے گھر چھوڑ دیا،‏ مگر اُس نے اپنے بچوں کی یہوواہ کی راہوں پر تربیت کرنے کی ذمہ‌داری کو بخوشی اُٹھا لیا۔‏ اولیویا کا بیٹا ڈیرن،‏ جو اب ۳۱ سال کا ہے اور ایک مسیحی بزرگ اور پائنیر کے طور پر خدمت کر رہا ہے اُس وقت ۵ سال کا تھا۔‏ اولیویا کی پریشانیوں میں اضافے والی بات ڈیرن کو درپیش سنگین صحت کا مسئلہ تھا جس سے وہ آج بھی پریشان ہے۔‏ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے ڈیرن لکھتا ہے:‏ ”‏مجھے آج بھی یاد ہے کہ مَیں ہسپتال کے بستر پر بیٹھا بیتابی کیساتھ ماں کا انتظار کِیا کرتا تھا۔‏ وہ میرے پاس بیٹھ کر ہر روز بائبل پڑھا کرتی تھی۔‏ پھر وہ بادشاہتی گیت گاتی جسکے بول تھے ’‏اَے یہوواہ ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔‏‘‏ * آج تک یہ میرا پسندیدہ بادشاہتی گیت ہے۔‏“‏

۱۷ یہوواہ کیلئے اولیویا کی محبت اور اُس پر اُسکا بھروسا سنگل ماں کے طور پر اُسکی کامیابی کا باعث بنا۔‏ (‏امثال ۳:‏۵،‏ ۶‏)‏ اُسکا عمدہ میلان اُن نشانوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اُس نے اپنے بچوں کے سامنے رکھے۔‏ ”‏ماں نے ہمیشہ ہمارے سامنے کُل‌وقتی خدمت کا نشانہ رکھا،‏“‏ ڈیرن کہتا ہے۔‏ ”‏میری چار بہنوں اور مَیں نے کُل‌وقتی خدمت اختیار کی۔‏ تاہم،‏ ماں اس پر کبھی فخر نہیں کِیا کرتی تھی۔‏ مَیں اسکی شاندار خوبیوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‏“‏ سچ ہے کہ سب کے بچے اولیویا کے بچوں کی مانند بڑے ہو کر خدا کی خدمت اختیار نہیں کرتے۔‏ مگر جب ایک ماں بائبل اُصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے تو وہ یہوواہ کی راہنمائی اور پُرمحبت حمایت کا یقین رکھ سکتی  ہے۔‏—‏زبور ۳۲:‏۸‏۔‏

۱۸.‏ ہم یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم مسیحی کلیسیا کی یہوواہ کی فراہمی کی قدر کرتے ہیں؟‏

۱۸ خدا کی طرف سے حمایت دراصل مسیحی کلیسیا کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے،‏ جس میں باقاعدہ روحانی خوراک کا پروگرام،‏ مسیحی برادری اور روحانی طور پر پُختہ ”‏آدمیوں کی صورت میں انعام“‏ شامل ہیں۔‏ (‏افسیوں ۴:‏۸‏)‏ وفادار بزرگ کلیسیا میں سب کی حوصلہ‌افزائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ”‏بیواؤں اور یتیموں کی مصیبت کے وقت“‏ اُنکا خاص خیال رکھتے ہیں۔‏ (‏یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ پس خدا کے لوگوں کی قربت میں رہیں اور خود کو کبھی الگ نہ کریں۔‏—‏امثال ۱۸:‏۱؛‏ رومیوں ۱۴:‏۷‏۔‏

تابعداری کی خوبی

۱۹.‏ بیوی کی تابعداری کمتری کو کیوں ظاہر نہیں کرتی اور بائبل کی کونسی مثال اسکی حمایت کرتی ہے؟‏

۱۹ یہوواہ نے عورت کو آدمی کی مددگار کے طور پر خلق کِیا۔‏ (‏پیدایش ۲:‏۱۸‏)‏ لہٰذا،‏ بیوی کے شوہر کے تابع ہونا کسی بھی طرح کمتری کو ظاہر نہیں کرتا۔‏ اسکی بجائے یہ عورت کو بلندمرتبہ بناتا ہے کیونکہ وہ اپنی مختلف خوبیوں اور مہارتوں کو خدا کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے قابل ہوتی ہے۔‏ امثال کا ۳۱ باب قدیم اسرائیل میں ایک لائق بیوی کی مختلف کارگزاریوں کی طویل فہرست فراہم کرتا ہے۔‏ وہ حاجتمندوں کی مدد کرتی،‏ تاکستان لگاتی اور زمین خریدتی تھی۔‏ جی‌ہاں،‏ ”‏اُسکے شوہر کے دل کو اُس پر اعتماد [‏تھا]‏ اور اُسے منافع کی کمی [‏نہیں تھی]‏۔‏“‏—‏۱۱،‏ ۱۶،‏ ۲۰ آیات۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ ایک مسیحی عورت کو اپنی خداداد خوبیوں کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏ (‏ب)‏ آستر نے کونسی عمدہ صفات ظاہر کیں اور یہوواہ اُسے کسطرح سے استعمال کرنے کے قابل ہوا تھا؟‏

۲۰ ایک حلیم‌الطبع،‏ خداپرست عورت نہ تو خود کو بلند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے شوہر کیساتھ مقابلہ کرتی ہے۔‏ (‏امثال ۱۶:‏۱۸‏)‏ وہ دُنیاوی حاصلات کے ذریعے اپنی ذات کی تکمیل نہیں چاہتی بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بنیادی طور پر اپنے خاندان،‏ ساتھی مسیحیوں،‏ پڑوسیوں اور سب سے بڑھ کر یہوواہ کی خدمت کیلئے استعمال کرتی ہے۔‏ (‏گلتیوں ۶:‏۱۰؛‏ ططس ۲:‏۳-‏۵‏)‏ بائبل میں آستر ملکہ کی مثال پر غور کریں۔‏ جسمانی طور پر خوبصورت ہونے کے باوجود،‏ وہ حلیم اور تابعدار تھی۔‏ (‏آستر ۲:‏۱۳،‏ ۱۵‏)‏ شادی کے بعد اُس نے اپنے شوہر اخسویرس بادشاہ کیلئے گہرا احترام ظاہر کِیا جس میں اُسکی پہلی بیوی ناکام رہی تھی۔‏ (‏آستر ۱:‏۱۰-‏۱۲؛‏ ۲:‏۱۶،‏ ۱۷‏)‏ ملکہ بننے کے بعد بھی آستر مختلف معاملات میں اپنے چچازاد بھائی مردکی سے مشورہ کِیا کرتی تھی۔‏ مگر وہ ہرگز کمزور نہیں تھی!‏ اُس نے بڑی دلیری کیساتھ طاقتور اور ظالم ہامان کو بےنقاب کِیا جو یہودیوں کو نابود کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھا۔‏ یہوواہ نے آستر کو اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے استعمال کِیا۔‏—‏آستر ۳:‏۸-‏۴:‏۱۷؛‏ ۷:‏۱-‏۱۰؛‏ ۹:‏۱۳‏۔‏

۲۱.‏ ایک مسیحی عورت کیسے یہوواہ کیلئے زیادہ قابلِ‌قدر بن سکتی ہے؟‏

۲۱ واضح طور پر،‏ ماضی اور حال میں خداپرست عورتوں نے یہوواہ اور اُسکی پرستش کیلئے بِلاشرکتِ‌غیرے عقیدت دکھائی ہے۔‏ اسلئے،‏ خداترس عورتیں یہوواہ کی نظروں میں قابلِ‌قدر ہیں۔‏ مسیحی بہنو!‏ یہوواہ کی روح کو اجازت دیں کہ وہ آپکو ایک خوبصورت ”‏ظرف“‏ بنائے ایک ایسا ظرف جو ”‏ہر نیک کام کیلئے تیار“‏ ہو۔‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۱؛‏ رومیوں ۱۲:‏۲‏)‏ ایسے قابلِ‌قدر پرستاروں کے سلسلے میں،‏ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏اُسکی محنت کا اجر اُسے دو اور اُسکے کاموں سے مجلس میں اُسکی ستایش ہو۔‏“‏ (‏امثال ۳۱:‏۳۱‏)‏ دُعا ہے کہ آپ میں سے ہر ایک کی بابت یہ سچ ہو۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 13 ایسی حوصلہ‌افزائی کیسے کی جا سکتی ہے اس کیلئے مارچ ۱۵،‏ ۲۰۰۲ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۲۶-‏۲۸ کو دیکھیں۔‏

^ پیراگراف 16 یہوواہ کے گواہوں کی شائع‌کردہ یہوواہ کے حضور گیت گائیں میں گیت نمبر ۲۱۲۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

‏• پہلی صدی کی بعض مسیحی عورتوں نے کیسے خود کو یہوواہ کی نظر میں گراں‌بہا ثابت کِیا؟‏

‏• ہمارے زمانے میں کیسے بہت سی بہنوں نے خود کو خدا کیلئے گراں‌بہا بنایا ہے؟‏

‏• کن طریقوں سے یہوواہ سنگل ماؤں اور دیگر ایسی بہنوں کی حمایت کرتا ہے جنکے شوہر نہیں ہیں؟‏

‏• کیسے ایک عورت سرداری کے بندوبست کیلئے احترام دکھا سکتی ہے؟‏

‏[‏مطالعے کے سوالات]‏

‏[‏صفحہ ۱۷ پر بکس]‏

قابلِ‌غور مثالیں

کیا آپ بائبل میں متذکرہ وفادار عورتوں کی مزید مثالوں پر غور کرنا چاہینگے؟‏ اگر ایسا ہے تو مندرجہ‌ذیل صحائف پڑھیں۔‏ جب آپ ان عورتوں کی مثالوں پر غور کرتے ہیں تو ایسے اُصول دیکھنے کی کوشش کریں جو آپ اپنی زندگی میں کافی حد تک استعمال کرنا چاہینگے۔‏—‏رومیوں ۱۵:‏۴‏۔‏

سارہ:‏ پیدایش ۱۲:‏۱،‏ ۵؛‏ ۱۳:‏۱۸الف؛‏ ۲۱:‏۹-‏۱۲؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۵،‏ ۶‏۔‏

فراخدل اسرائیلی عورتیں:‏ خروج ۳۵:‏۵،‏۲۲،‏ ۲۵،‏ ۲۶؛‏ ۳۶:‏۳-‏۷؛‏ لوقا ۲۱:‏۱-‏۴‏۔‏

دبورہ:‏ قضاۃ ۴:‏۱–‏۵:‏۳۱‏۔‏

روت:‏ روت ۱:‏۴،‏ ۵،‏ ۱۶،‏ ۱۷؛‏ ۲:‏۲،‏ ۳ ۱۱-‏۱۳؛‏ ۴:‏۱۵۔‏

شونیمی عورت:‏ ۲-‏سلاطین ۴:‏۸-‏۳۷‏۔‏

فنیکی عورت:‏ متی ۱۵:‏۲۲-‏۲۸‏۔‏

مرتھا اور مریم:‏ مرقس ۱۴:‏۳-‏۹؛‏ لوقا ۱۰:‏۳۸-‏۴۲؛‏ یوحنا ۱۱:‏۱۷-‏۲۹؛‏ ۱۲:‏۱-‏۸‏۔‏

تبیتا:‏ اعمال ۹:‏۳۶-‏۴۱‏۔‏

فلپس کی چار بیٹیاں:‏ اعمال ۲۱:‏۹‏۔‏

فیبے:‏ رومیوں ۱۶:‏۱،‏ ۲‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

کیا آپ وفاداری سے خدا کا حکم ماننے والی کنواری بہنوں کو شاباش دیتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۱۶ پر تصویر]‏

بچوں کے سکول جانے سے پہلے کن ضروری باتوں کیلئے دُعا کی جا سکتی ہے؟‏